English.guru
واپس

⚠️10 غلطیاں جو اردو بولنے والے انگریزی میں کرتے ہیں

اردو بولنے والوں کی انگریزی کی سب سے عام غلطیاں — اور یہ کہ وہ اردو کی گرامر سے کیسے پیدا ہوتی ہیں: «سے» کی کثیر معنویت، «وہ»، «نا؟» اور «ہی» تک۔

اردو بولنے والوں کی انگریزی کی زیادہ تر غلطیاں اتفاقی نہیں ہوتیں۔ وہ اردو کے کسی بالکل درست اور فطری ڈھانچے کو سیدھا انگریزی پر چسپاں کرنے سے پیدا ہوتی ہیں۔ جب آپ دیکھ لیتے ہیں کہ غلطی کہاں سے آتی ہے تو اسے چھوڑنا بہت آسان ہو جاتا ہے۔ یہاں دس سب سے عام غلطیاں ہیں، ہر ایک کے ساتھ اس کی اردو جڑ۔

1. «سمجھ رہا ہوں» — حالت بتانے والے افعال میں -ing

یہ جنوبی ایشیائی انگریزی کی سب سے مشہور غلطی ہے، اور اس کی وجہ سمجھ میں آتی ہے: اردو میں «میں سمجھ رہا ہوں»، «مجھے یہ گانا بہت پسند آ رہا ہے» اور «وہ مجھے جان رہے ہیں» بالکل فطری جملے ہیں۔ اردو کا جاری حال (رہا ہے) تقریباً ہر فعل کے ساتھ چلتا ہے۔ انگریزی میں ایسا نہیں ہے۔

❌ I am understanding now. ✅ I understand now.

❌ I am liking this song. ✅ I like this song.

❌ She is having two brothers. ✅ She has two brothers.

❌ Are you knowing him? ✅ Do you know him?

know, understand, like, love, want, need, believe, have (ملکیت کے معنی میں) ایک حالت بتاتے ہیں، کوئی جاری عمل نہیں۔ اس لیے وہ تقریباً ہمیشہ present simple میں رہتے ہیں، چاہے بات ٹھیک اسی وقت کی ہو۔

2. «وہ» — he اور she کا فرق

اردو میں تیسرے شخص کے لیے ایک ہی ضمیر ہے: وہ۔ وہی «he» ہے، وہی «she» اور وہی «that»۔ جنس صرف فعل کی شکل سے پتا چلتی ہے («وہ گیا» / «وہ گئی»)۔ انگریزی میں فعل کی شکل جنس نہیں بتاتی، اس لیے ضمیر خود یہ کام کرتا ہے — اور اردو بولنے والے اکثر دونوں کو گڈمڈ کر دیتے ہیں، خاص طور پر تیز بولتے ہوئے۔

❌ My sister is a teacher. He works in Lahore. ✅ My sister is a teacher. She works in Lahore.

❌ I met Ali's wife. He is very kind. ✅ I met Ali's wife. She is very kind.

اصول یہ ہے کہ بولنے سے پہلے ایک لمحے کے لیے سوچیں: یہ شخص مرد ہے یا عورت؟ انگریزی میں کوئی چیز آپ کو یہ فیصلہ ٹالنے نہیں دیتی۔

3. غائب آرٹیکل: a، an، the

اردو میں آرٹیکل نہیں ہوتے («ایک» کبھی کبھی a کا کام کرتا ہے، مگر عموماً چھوڑ دیا جاتا ہے)، اس لیے انگریزی میں انہیں ڈالنا یاد نہیں رہتا۔ سب سے بڑی غلطی پیشے کے نام کے ساتھ ہوتی ہے: «میں ڈاکٹر ہوں» میں کوئی لفظ بیچ میں نہیں آتا۔

❌ I am doctor. ✅ I am a doctor.

❌ Please give me pen. ✅ Please give me a pen.

الٹی غلطی بھی اتنی ہی عام ہے — جہاں آرٹیکل نہیں چاہیے وہاں «the» ڈال دینا:

❌ I like the music. (موسیقی عمومی طور پر) ✅ I like music.

تفصیلی قاعدہ a، an، the کے مضمون میں ہے۔

4. «سے» کو ایک ہی انگریزی لفظ سمجھنا

یہ اردو کی سب سے خاص رکاوٹ ہے۔ اردو کا ایک چھوٹا سا لفظ سے انگریزی کے کئی الگ الفاظ کا کام کرتا ہے: from، by، with، than، of۔ اردو بولنے والا ہر جگہ from لگا دیتا ہے، کیونکہ «سے» کا سب سے پہلا معنی وہی ہے۔

  • ❌ I came from bus. → ✅ I came by bus. (بس سے آیا)
  • ❌ She is taller from me. → ✅ She is taller than me. (مجھ سے لمبی ہے)
  • ❌ I am afraid from dogs. → ✅ I am afraid of dogs. (کتوں سے ڈرتا ہوں)
  • ❌ He is married from a doctor. → ✅ He is married to a doctor. (ڈاکٹر سے شادی ہوئی)
  • ❌ Cut it from knife. → ✅ Cut it with a knife. (چھری سے کاٹو)

حل یہ ہے کہ انگریزی میں «سے» کے بجائے معنی سے سوچیں: ذریعہ؟ → by یا with۔ موازنہ؟ → than۔ آغاز؟ → from۔ خوف؟ → afraid of۔ اسی طرح «پر»، «کو» اور «میں» بھی ایک دوسرے کی جگہ نہیں لیتے — دیکھیں مشکل پریپوزیشنز۔

5. «discuss about»، «reach to»، «pay attention on» — اضافی یا غلط پریپوزیشن

اردو کے افعال کے ساتھ اپنے حروفِ جار جڑے ہوتے ہیں، اور وہ لفظ بہ لفظ انگریزی میں آ جاتے ہیں۔

  • ❌ We need to discuss about this. → ✅ We need to discuss this. («اس کے بارے میں بات کرنا» — مگر discuss کے اندر about پہلے سے ہے)
  • ❌ We reached to the station. → ✅ We reached the station. («اسٹیشن تک پہنچے»)
  • ❌ Pay attention on the road. → ✅ Pay attention to the road. («سڑک پر توجہ دیں»)
  • ❌ Listen my advice. → ✅ Listen to my advice. («میری بات سنیں» میں کچھ جڑا نہیں ہوتا)

ان کا کوئی ایک اصول نہیں؛ ہر فعل کے ساتھ اس کا حرفِ جار ایک ہی بار سیکھنا پڑتا ہے۔ جو فعل آپ سیکھیں، اسے ہمیشہ اپنے حرفِ جار کے ساتھ لکھیں: pay attention to، listen to۔

6. فعل آخر میں، سوال میں do نہیں

اردو میں فعل جملے کے آخر میں آتا ہے («میں نے کل فلم دیکھی»)، اور سوال کے لیے الگ مددگار فعل کی ضرورت نہیں ہوتی — بس «کیا» لگا دیں یا لہجہ بدل لیں۔ انگریزی کی ترتیب سخت ہے: فاعل، فعل، مفعول — اور سوال میں do/does/did۔

❌ I yesterday the film watched. ✅ I watched the film yesterday.

❌ You want tea? / What you want? ✅ Do you want tea? / What do you want?

❌ Where you are going? ✅ Where are you going?

یہی چیز جملے کے اندر آنے والے سوال میں الٹ جاتی ہے۔ سیدھے سوال میں ترتیب پلٹتی ہے (Where is he?)، مگر بڑے جملے کے اندر وہ پھر عام جملے کی ترتیب پر آ جاتی ہے:

❌ I don't know what is this. → ✅ I don't know what this is.

❌ Can you tell me where is the station? → ✅ Can you tell me where the station is?

مزید تفصیل منفی جملوں اور سوالوں کے مضمون میں ہے۔

7. «isn't it?» — ہر جملے کے آخر میں ایک ہی ٹیگ

اردو میں جملے کے آخر میں «نا؟» یا «ہے نا؟» جوڑ دینا کافی ہے — چاہے فعل کوئی بھی ہو۔ انگریزی کا ٹیگ سوال مرکزی فعل کے مطابق بدلتا ہے، مگر اردو بولنے والے اکثر isn't it? کو ہمہ گیر ٹیگ بنا لیتے ہیں۔

  • ❌ You like coffee, isn't it? → ✅ You like coffee, don't you?
  • ❌ She went home, isn't it? → ✅ She went home, didn't she?
  • ❌ They can swim, isn't it? → ✅ They can swim, can't they?

قاعدہ سیدھا ہے: مثبت جملے کو منفی ٹیگ ملتا ہے، اور ٹیگ ہمیشہ وہی مددگار فعل دہراتا ہے جو جملے میں ہے — اور اگر کوئی مددگار فعل نہیں تو do/does/did۔ تفصیل question tags میں۔

8. «small small things» — دہرانے سے زور

اردو میں صفت یا ظرف کو دہرانا بہت عام ہے: «چھوٹی چھوٹی باتیں»، «آہستہ آہستہ»، «تھوڑا تھوڑا»۔ اس سے کثرت یا زور ظاہر ہوتا ہے۔ انگریزی میں دہرانے سے یہ مطلب نہیں نکلتا۔

  • ❌ We talked about small small things. → ✅ We talked about lots of small things.
  • ❌ Go slowly slowly. → ✅ Go slowly. / Take it step by step.
  • ❌ Give me little little sugar. → ✅ Give me a little sugar.

9. «itself»، «only» — اردو «ہی» کا لفظی ترجمہ

اردو کا زوردار ذرّہ ہی («یہیں»، «کل ہی»، «ابھی ہی») انگریزی میں اکثر itself یا only بن کر جملے کے آخر میں آ جاتا ہے، جہاں انگریزی میں وہ عجیب لگتا ہے۔

  • ❌ I live here itself. → ✅ I live right here.
  • ❌ I told you yesterday itself. → ✅ I told you only yesterday. / I told you yesterday.
  • ❌ I stay at home only. → ✅ I just stay at home. / I only stay at home.

انگریزی میں only اس لفظ سے پہلے آتا ہے جس پر زور دینا ہے، آخر میں نہیں۔

10. «since five years» — مدت کے ساتھ جاری حال

یہ آخری جال دراصل غلطی نمبر 1 اور 4 کا ملاپ ہے۔ اردو میں «میں پانچ سال سے یہاں رہ رہا ہوں» بالکل فطری ہے: رہ رہا ہوں (جاری حال) کے ساتھ سے۔ انگریزی میں اس کا ترجمہ present continuous سے نہیں ہوتا، بلکہ present perfect سے:

❌ I am living here since five years. ✅ I have lived here for five years.

❌ I am knowing him since 2018. ✅ I have known him since 2018.

یہاں «سے» دو الگ الفاظ میں ٹوٹتا ہے: since ایک نقطے کے لیے (2018، پیر کا دن)، for ایک دورانیے کے لیے (پانچ سال، دو ہفتے)۔

اسے عمل میں لانا

ان میں سے ہر غلطی ایک ہی جگہ سے آتی ہے: اردو کا کوئی ڈھانچہ جو مکمل طور پر فطری ہے، بس سیدھا انگریزی پر چسپاں کر دیا گیا۔ انہیں ایک ایک کر کے پہچاننا — سب کچھ ایک ساتھ ٹھیک کرنے کی کوشش کرنے کے بجائے — اصل فرق لاتا ہے۔ اگلی بار بولتے ہوئے ان میں سے صرف ایک پر دھیان دیں؛ اگلے ہفتے دوسری پر۔

خود مشق کریں

نیچے دیا گیا کوئز انہی دس نمونوں کو جانچتا ہے — ہر ایک ایسے جملوں میں جو اردو بولنے والے کے منہ سے سچ مچ نکل سکتے ہیں۔

خود کو پرکھیں: کوئز: اردو بولنے والوں کی انگریزی میں عام غلطیاں →